ریاض: سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا ہے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم نہیں کریں گے اور نہ ہی دیگر عرب ممالک کی طرح معاہدۂ ابراہیم میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام ہی مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔اسرائیل سے دوستانہ تعلقات قائم نہیں کریں گے اور نہ ہی معاہدہ ابراہیم میں فریق بننے کا ارادہ ہے۔سعودی وزیرخارجہ نے ایران پر مشرق وسطیٰ میں قیام امن کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت یمن میں حوثی باغیوں کو عسکری امداد کی فراہمی اور خلیج فارس میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈال کر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اگر نئے امریکی صدر ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں تاہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری نہ کرنے کی یقین دہانی کرانا ہوگی۔اس حوالے سے سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر ایران خطے کی سلامتی میں شامل ہوتا ہے تو خیرمقدم کریں گے لیکن اس سے قبل ایران کو مشتق وسطیٰ میں عسکری قوتوں کو اسلحے کی فراہمی اور مالی معاونت بند کرنا ہوگی۔