کیمبرج: ہم نے اسپائیڈرمین کے ہیرو کو اپنے ہاتھوں سے جالے کے تار پھینکتے ہوئے دیکھا ہے اور اب عین اسی طرح کا پودا دریافت ہوا ہے جو پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کے خلیات پر سوراخ سے تار کی شکل کا ریشہ خارج ہوتا ہے۔یہ ایلپائنی پودا ہےجس کا حیاتیاتی نام Dionysia tapetodes ہے۔ اس کے خلیات میں باریک سوراخ ہوتے ہیں جس میں سے روئی کے ریشے خارج ہوتے ہیں اور گڑیا کے بال کی طرح اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ سائنسداں اس پودے کے خلیات میں سوراخ دیکھ کر حیران ہیں کیونکہ اس سے قبل یہ خاصیت کسی پودے میں نہیں دیکھی گئی تھی۔یہ پودا ترکمانستان، شمال مشرقی ایران اور پاک افغان سرحدی پہاڑیوں پر عام پایا جاتا ہے۔ اس کےباوجود ماہرین نے کبھی اس پر غور نہیں کیا ۔ اب کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے بتایا ہے کہ اس کے پتے ریشم نما لمبے  دھاگے سے ڈھک جاتے ہیں جو فلے وون سے بنتے ہیں اور وہ فلے وینوئڈ کیمیکل کی ہی ایک قسم ہے۔