لندن ( ایس ایم خان ) ریحانہ علی انفارمیشن سیکٹری تحریک کشمیر برطانیہ اپنے بیان میں کہا کہ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آج زیادہ تر کشمیری جماعتیں ہندوستانی سفارت خانہ لندن کے باہر متحد ہیں۔ میں اسے آج A370 اور 35A کی منسوخی کے 2 سال نہیں کہوں گا بلکہ میں اسے انسانیت کے دن کے خاتمے کا نام دوں گا۔ IOJK کے کشمیریوں کو ذلیل کیا گیا اور ان کو مویشیوں کی طرح برتاؤ کیا گیا جن کے پاس کشمیر کہلانے والی کھلی جیل میں بند ہونے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ نہیں جہاں ہسٹروئے میں ہم سخت قوانین کے ساتھ اتنا طویل لاک ڈاؤن سنتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوا۔ میں دنیا سے درخواست کروں گا کہ وہ ان قوانین کو اجاگر کرنے کے لیے متحد ہو جائیں جنہوں نے آئی او جے کے میں مظالم کو دیے گئے استثنیٰ کے ساتھ آسان بنا دیا ہے لیکن یہ کہہ کر رائے شماری مشکل ہے کہ جب افواج کو 10 کشمیریوں پر 1 فوجی تک بڑھا دیا جائے تو سب کچھ نارمل ہے۔ یہ دنیا کے غیر قانونی قوانین ہیں AFSPA1990 ، PSA1978 ، ڈومیسائل قانون 2020 5 اگست 2019 سے پہلے نافذ ہیں لیکن اس کے بعد UAPA2002 ، NSA1980 اور ITA2000۔ کوئی بھی کشمیری بچہ ، عورت ، مرد ، بوڑھا یا صحافی ان قوانین سے محفوظ نہیں ہے جن پر رائے شماری تک امن کی بحالی پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ بھارت نے وعدہ کیا کہ وہ صرف A370 اور 35A t کو منسوخ کرے گا۔ A370 اور 35A t کو منسوخ کرے گا۔