کراچی: عدالت نے گھر گھر جا کر سرکاری کورونا ویکسین فروخت سے متعلق مقدمہ میں گرفتار امان سلطان سمیت چاروں ملزمان کی درخواست ضمانت نمٹادی جب کہ عدالت نے ملزمان کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو کیس کے دستاویزات اینٹی کرپشن کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو گھر گھر جا کر سرکاری کورونا ویکسین فروخت سے متعلق مقدمہ کی سماعت ہوئی، عدالت نے گھر گھر جا کر سرکاری کورونا ویکسین فروخت سے متعلق مقدمہ میں گرفتار امان سلطان سمیت چاروں ملزمان کی درخواست ضمانت نمٹادی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم اگر ڈیوٹی کے دوران غیر قانونی فوائد حاصل کرے تو معاملہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے، ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف اینٹی کرپشن ایکٹ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے،اس عدالت کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اس کیس کی سماعت کرے، یہ کیس اینٹی کرپشن کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، تفتیشی افسر محمد آصف پولیس فائل، چالان کی کاپی اینٹی کرپشن کورٹ میں جمع کرائیں۔سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان کو ضمانتیں نہ دی جائیں، اس کیس میں کرپشن کی دفعات شامل کر کے اینٹی کرپشن کورٹ بھیجا جائے، ملزمان میں امان سلطان، طاہرہ بانو، وقاص اور محمد علی شامل ہیں۔