وہاڑی ( نامہ نگار ) ایف بی آر کی طرف سے چھوٹے تاجروں کے سیل پوائنٹس پر ایف بی آر سیل ڈیوائس لگانے کے خلاف مرکزی انجمن تاجران نے بلدیہ کے باہر احتجاجی دھرنا اور ایف بی آر آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تاجروں نے ظالمانہ فیصلہ واپس لینے اور تاجروں کا معاشی قتل بند کرنے کے مطالبات کئے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرکزی انجمن تاجران ارشاد حسین بھٹی، سینئر نائب صدر میاں ساجد آصف ، جنرل سیکرٹری راو خلیل احمد و دیگر نے کہا کہ حکومت آئے روز چھوٹے تاجروں کیلئے مشکلات کھڑی کر رہی ہے مینو فیکچرز کو چھوڑ کر چھوٹے تاجروں کو ایف بی آر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات دے کر تاجر کے کاروبار تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر پوائنٹ آف سیل
ڈیوائس لگانی ہے تو مینو فکچرز کے پوائنٹس پر لگائی جائے چھوٹا تاجر پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہا ہے سیل پوائنٹ ڈیوائس لگانے کیلئے کم از کم دو لاکھ روپے کی ضرورت ہے اور چھوٹا تاجر اس کو افورڈ نہیں کر سکتا ملک میں سیل ٹیکس کا پہلے سے نظام موجود ہے ہر تاجر سترہ فیصد ٹیکس پہلے ادا کر رہا ہے دوہر اٹیکس لگانا ظلم ہے بڑے تاجر سیل پوائنٹس ڈیوائس لگا سکتے ہیں چھوٹے تاجر کو ریلیف دیاجائے حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے تاجر سراپا احتجاج ہیں تاجروں کے احتجاج سے نہ صرف حکومت کیلئے مشکلات کھڑی ہونگی بلکہ ملکی معیشت پر بھی اچھے اثرات مرتب نہیں ہونگے احتجاج میں تاجروں نے ایف بی آر ظالمانہ ٹیکس نامنظور ، ایف بی آر مردہ باد، تاجروں کا معاشی قتل بند کرو، تاجروں کامعاشی قتل نامنظور کے نعرے بھی لگائے اور مطالبات تسلیم نہ ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا