جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب میں ’وقفے کے اثرات‘ (اسپیسنگ افیکٹ) کی تفصیل دی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ سیکھنے اور پڑھنے کے عمل میں طویل وقفہ لیا جائے تو اس سے یادداشت اچھی ہوتی ہے اور سیکھنے کا عمل بہتر ہوتا ہے۔ اب اسی بات کے مزید سائنسی ثبوت بھی ملے ہیں۔اس ضمن میں جرمنی کے میکس پلانک انسٹٰی ٹیوٹ سے وابستہ ماہرین نے چوہوں کے دماغ پر بعض تجربات کئے ہیں جن میں روزمرہ زندگی کے یادداشتی تجربات شامل تھے۔ انہوں نے بھول بھلیوں میں چاکلیٹ رکھی اور اس کے تین مواقع فراہم کئے تاکہ وہ اپنا انعام حاصل کرسکیں۔